5 اشعار

کس سے رک سکتا تھا جو کار زیاں ہونے کو تھا

Kis se ruk sakta tha jo kaar-e-ziyan hone ko tha

کس سے رک سکتا تھا جو کار زیاں ہونے کو تھارائیگاں ہوتا گیا جو رائیگاں ہونے کو تھا

تم تھے تنہائی تھی لیکن ہم نہ جانے کس لئےرک گئے ورنہ وہ لمحہ جاوداں ہونے کو تھا

تیرے چہرے پر اترتی ان بہاروں کی قسمتیری چاہت کا یہ گل نذر خزاں ہونے کو تھا

نام سے منسوب تھا تیرے تو واپس لے گیاورنہ وہ آنسو تو اس شب کہکشاں ہونے کو تھا

کیا ہوا جانے کہ پھر کچھ بھی نہ ہو پایا یہاںورنہ ہونے کے لئے سارا جہاں ہونے کو تھا

— امیر امام