7 اشعار

ایک بے رنگ نظارہ بھی تو جا سکتا تھا

Ek be-rang nazaara bhi to ja sakta tha

ایک بے رنگ نظارہ بھی تو جا سکتا تھامیں ان آنکھوں میں اتارا بھی تو جا سکتا تھا

مجھ سے شکوہ کہ پلٹ کر نہیں دیکھا میں نےمجھے اک بار پکارا بھی تو جا سکتا تھا

چلو دنیا کے سبب بات نہیں تھی ممکنآنکھوں آنکھوں میں اشارہ بھی تو جا سکتا تھا

بکھرے بالوں پہ مرے طنز سے ہنسنے والےمیرے بالوں کو سنوارا بھی تو جا سکتا تھا

کیا ضروری ہے کہ ہر کھیل سدا تم جیتوزندگی میں کبھی ہارا بھی تو جا سکتا تھا

بڑے ظالم ہو جدائی کی سزا دی مجھ کوجان جاں جان سے مارا بھی تو جا سکتا تھا

اب سلگتی ہے ہتھیلی تو خیال آتا ہےوہ بدن صرف نہارا بھی تو جا سکتا تھا

— امیر امام