5 اشعار

مزید اک بار پر نار گراں رکھا گیا ہے

Mazeed ek baar par naar-e-giraan rakha gaya hai

مزید اک بار پر نار گراں رکھا گیا ہےزمیں جو تیرے اوپر آسماں رکھا گیا ہے

کبھی تو چیخ کر آواز دے تو جان جاؤںمرے زندان میں تجھ کو کہاں رکھا گیا ہے

مری نیندوں میں رہتی ہے سدا تشنہ دہانیمرے خوابوں میں اک دریا رواں رکھا گیا ہے

ہوا کے ساتھ پھولوں سے نکلنے کی سزا میںبھٹکتی خوشبوؤں کو بے اماں رکھا گیا ہے

مگر یہ دل بہلتا ہی نہیں گو اس کے آگےتمہارے بعد یہ سارا جہاں رکھا گیا ہے

— امیر امام