7 اشعار

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی

Neend ke bojh se palkon ko jhapakti hui aayi

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئیصبح جب رات کی گلیوں میں بھٹکتی ہوئی آئی

دیدۂ خشک میں اک ماہیٔ بے آب تھی نیندچشمۂ خواب تلک آئی پھڑکتی ہوئی آئی

اور پھر کیا ہوا کچھ یاد نہیں ہے مجھ کوایک بجلی تھی کہ سینہ میں لپکتی ہوئی آئی

آج کیا پھر کسی آواز نے بیعت مانگییہ مری خامشی جو پاؤں پٹکتی ہوئی آئی

رات گھبرا گئی سورج سے کہا ال مددےوہ بصد ناز جو زلفوں کو جھٹکتی ہوئی آئی

ہو گئی خیر ترا نام نہ آیا لب پرایک آہٹ تری خوشبو میں مہکتی ہوئی آئی

وقت رخصت مری آنکھوں کی طرح چپ تھی جو یاداے مرے دل تری مانند دھڑکتی ہوئی آئی

— امیر امام