6 اشعار

غرور آب رواں تجھ کو مات ہو گئی ہے

Ghuroor-e-aab-e-ravaan tujh ko maat ho gayi hai

غرور آب رواں تجھ کو مات ہو گئی ہےہماری تشنہ دہانی فرات ہو گئی ہے

کہاں چلے گئے آؤ خدائی فرماؤکہ خلق ایک نئی کائنات ہو گئی ہے

تمہارے خوابوں کو جانا تھا جا چکے لیکنتمہاری یاد بھی خوابوں کے ساتھ ہو گئی ہے

یہ خون رستی ہوئی انگلیاں قلم اپنایہ خشک آنکھوں کی خشکی دوات ہو گئی ہے

پرندے اپنے گھروں کو پلٹ چکے کب کےچلے بھی آؤ کہ آنکھوں میں رات ہو گئی ہے

تو ہم سے تم بھی نہ بولو گے خیر مت بولوہماری چاند ستاروں سے بات ہو گئی ہے

— امیر امام