7 اشعار

ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم

Hai kaun kis ki zaat ke andar likhenge hum

ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہمنہر رواں کو پیاس کا منظر لکھیں گے ہم

یہ سارہ شہر اعلیٰ حکمت لکھے اسےخنجر اگر ہے کوئی تو خنجر لکھیں گے ہم

اب تم سپاس نامۂ شمشیر لکھ چکےاب داستان لاشۂ بے سر لکھیں گے ہم

رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پرصحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم

اس شہر بے چراغ کی آندھی نہ ہو اداستجھ کو ہوائے کوچۂ دلبر لکھیں گے ہم

کیا حسن ان لبوں میں جو پیاسے نہیں رہےسوکھے ہوئے لبوں کو گل تر لکھیں گے ہم

ہم سے گناہ گار بھی اس نے نبھا لیےجنت سے یوں زمین کو بہتر لکھیں گے ہم

— امیر امام