6 اشعار

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا

Kandhon se zindagi ko utarne nahin diya

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیااس موت نے کبھی مجھے مرنے نہیں دیا

پوچھا تھا آج میرے تبسم نے اک سوالکوئی جواب دیدۂ تر نے نہیں دیا

تجھ تک میں اپنے آپ سے ہو کر گزر گیارستہ جو تیری راہ گزرنے نہیں دیا

کتنا عجیب میرا بکھرنا ہے دوستومیں نے کبھی جو خود کو بکھرنے نہیں دیا

ہے امتحان کون سا صحرائے زندگیاب تک جو تیرے خاک بسر نے نہیں دیا

یارو امیرؔ امام بھی اک آفتاب تھاپر اس کو تیرگی نے ابھرنے نہیں دیا

— امیر امام