5 اشعار

پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئی

Peṛoñ kī chhaañv taaza hawa chhīñ li gaī

پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئیان بستیوں سے ان کی فضا چھین لی گئی

ان کے بلند ہاتھ قلم کر دئے گئےان کے لبوں سے ان کی دعا چھین لی گئی

بے خد و خال شور کا حصہ بنا دیاایسے صدائے خلق خدا چھین لی گئی

جینا وہ چاہتے تھے تو جینے نہیں دیامرنے چلے تو ان سے قضا چھین لی گئی

پھر ظالموں نے آگ لگا دی خیام میںپھر عورتوں کے سر سے ردا چھین لی گئی

— امیر امام