6 اشعار

حق طلب کرتے ہوئے لوگوں کو فریادی کہیں

Haq talab karte hue logoñ ko faryadi kaheñ

حق طلب کرتے ہوئے لوگوں کو فریادی کہیںگر یہ آزادی ہے کیسے اس کو آزادی کہیں

چاند کو شب زاد کہہ دینے سے کب پوری ہوئیبات پوری ہو جو ان صبحوں کو شب زادی کہیں

کتنے دھوکے باز ہیں لفظ و بیاں کے سلسلےاپنی قبریں ڈھونڈتی لاشوں کو آبادی کہیں

دودھ کی نہریں بنانا اپنے اپنے گھر تلکاور ستم یہ بھی کہ اس جذبہ کو فرہادی کہیں

آندھیوں سے لڑ رہے ہیں جنگ کچھ کاغذ کے لوگہم پہ لازم ہے کہ ان لوگوں کو فولادی کہیں

صرف حسن و عشق کے دم سے یہ باقی ہے ابھیآئیے دنیا کو حسن و عشق کی وادی کہیں

— امیر امام