9 اشعار

روٹھا ہوا ہے کب سے منانے کو آئے ہیں

Rooṭha hua hai kab se manane ko aaye hain

روٹھا ہوا ہے کب سے منانے کو آئے ہیںاٹھ اے امیر‌ امامؔ بلانے کو آئے ہیں

دعویٰ نہیں کہ لائیں گے ندی نکال کرصحرا میں صرف خاک اڑانے کو آئے ہیں

اس بار روک لے کہ ترے آستاں پہ ہمواپس کبھی نہ لوٹ کے آنے کو آئے ہیں

ایسا نہیں کہ زخم لگے ہیں فقط ہمیںہم سے بھی چند زخم زمانے کو آئے ہیں

یارو بڑا عجیب لطیفہ ہے زندگیآؤ سنو کہ ہنسنے ہنسانے کو آئے ہیں

آئے ہیں اس گلی میں کہ وہ یاد آ سکےیعنی اسے بھی آج بھلانے کو آئے ہیں

کیا تھک گئی ہوا بھی کہ اب تک نہیں چلییہ آخری چراغ جلانے کو آئے ہیں

شائستہ خامشی ہو مبارک حضور کودنیا میں ہم تو شور مچانے کو آئے ہیں

مانا پڑی ہیں اور بھی لاشیں پڑی رہیںہم تو بس اپنی لاش اٹھانے کو آئے ہیں

— امیر امام