8 اشعار

ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے

Har aah-e-sard ishq hai har waah ishq hai

ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہےہوتی ہے جو بھی جرات نگاہ عشق ہے

دربان بن کے سر کو جھکائے کھڑی ہے عقلدربار دل کہ جس کا شہنشاہ عشق ہے

سن اے غرور حسن ترا تذکرہ ہے کیااسرار کائنات سے آگاہ عشق ہے

جبار بھی رحیم بھی قہار بھی وہیسارے اسی کے نام ہیں اللہ عشق ہے

محنت کا پھل ہے صدقہ و خیرات کیوں کہیںجینے کی ہم جو پاتے ہیں تنخواہ عشق ہے

چہرہ فقط پڑاؤ ہیں منزل نہیں تریاے کاروان عشق تری راہ عشق ہے

ایسے ہیں ہم تو کوئی ہماری خطا نہیںللہ عشق ہے ہمیں واللہ عشق ہے

ہوں وہ امیر امام کہ فرہاد و قیس ہوںآؤ کہ ہر شہید کی درگاہ عشق ہے

— امیر امام