7 اشعار

ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے

In ko khala mein koi nazar aana chahiye

ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیےآنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجانہ چاہیے

وہ کام رہ کے شہر میں کرنا پڑا ہمیںمجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے

ہے ہجر تو کباب نہ کھانے سے کیا حصولگر عشق ہے تو کیا ہمیں مر جانا چاہیے

اس زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کراترا رہے ہیں ہم ہمیں اترانا چاہیے

دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن اگر ملےدھوکہ حسین سا تو اسے کھانا چاہیے

تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھیاے بےوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے

اس شاعری میں کچھ نہیں نقاد کے لئےدل دار چاہیے کوئی دیوانہ چاہیے

— امیر امام