5 اشعار

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے

Kabhi to bante hue aur kabhi bigadte hue

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئےیہ کس کے عکس ہیں تنہائیوں میں پڑتے ہوئے

عجیب دشت ہے اس میں نہ کوئی پھول نہ خارکہاں پہ آ گیا میں تتلیاں پکڑتے ہوئے

مری فضائیں ہیں اب تک غبار آلودہبکھر گیا تھا وہ کتنا مجھے جکڑتے ہوئے

جو شام ہوتی ہے ہر روز ہار جاتا ہوںمیں اپنے جسم کی پرچھائیوں سے لڑتے ہوئے

یہ اتنی رات گئے آج شور ہے کیساہوں جیسے قبر پہ پتھر کہیں اکھڑتے ہوئے

— امیر امام