5 اشعار

ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

Har ek shaam ka manzar dhuan ugalne laga

ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگاوہ دیکھو دور کہیں آسماں پگھلنے لگا

تو کیا ہوا جو میسر کوئی لباس نہیںپہن کے دھوپ میں اپنے بدن پہ چلنے لگا

میں پچھلی رات تو بے چین ہو گیا اتناکہ اس کے بعد یہ دل خود بہ خود بہلنے لگا

عجیب خواب تھے شیشے کی کرچیوں کی طرحجب ان کو دیکھا تو آنکھوں سے خوں نکلنے لگا

بنا کے دائرہ یادیں سمٹ کے بیٹھ گئیںبوقت شام جو دل کا الاؤ جلنے لگا

— امیر امام