6 اشعار

وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی

Woh apne band-e-qaba kholti to kya lagti

وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتیخدا کے واسطے کوئی کہے خدا لگتی

یقین تھی تو یقیں میں سما گئی کیسےگمان تھی تو گماں سے بھی ماورا لگتی

اگر بکھرتی تو سورج کبھی نہیں اگتاترے خیال کہ وہ زلف بس گھٹا لگتی

ترے مریض کو دنیا میں کچھ نہیں لگتادوا لگے نہ رقیبوں کی بد دعا لگتی

ہوئی ہے قید زمانہ میں روشنی کس سےبھلا وہ جسم اور اس کو کوئی قبا لگتی

لگی وہ تجھ سی تو عالم میں منفرد ٹھہریوگرنہ عام سی لگتی اگر جدا لگتی

— امیر امام