6 اشعار

یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا

Yeh kisi shakhs ko khone ki talafi thehra

یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرامیرا ہونا مرے ہونے میں اضافی ٹھہرا

جرم آدم تری پاداش تھی دنیا ساریآخرش ہر کوئی حق دار معافی ٹھہرا

یہ ہے تفصیل کہ یک لمحۂ حیرت تھا کوئیمختصر یہ کہ مری عمر کو کافی ٹھہرا

کچھ عیاں ہو نہ سکا تھا تری آنکھوں جیساوہ بدن ہو کے برہنہ بھی غلافی ٹھہرا

جب زمیں گھوم رہی ہو تو ٹھہرنا کیساکوئی ٹھہرا تو ٹھہرنے کے منافی ٹھہرا

قافیہ ملتے گئے عمر غزل ہوتی گئیاور چہرہ ترا بنیاد قوافی ٹھہرا

— امیر امام