5 اشعار

یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے

Ye kaar-e-zindagi tha to karna pada mujhe

یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھےخود کو سمیٹنے میں بکھرنا پڑا مجھے

پھر خواہشوں کو کوئی سرائے نہ مل سکیاک اور رات خود میں ٹھہرنا پڑا مجھے

محفوظ خامشی کی پناہوں میں تھا مگرگونجی اک ایسی چیخ کہ ڈرنا پڑا مجھے

اس بار راہ عشق کچھ اتنی طویل تھیاس کے بدن سے ہو کے گزرنا پڑا مجھے

پوری امیر امام کی تصویر جب ہوئیاس میں لہو کا رنگ بھی بھرنا پڑا مجھے

— امیر امام