8 اشعار

کیسی جادو بیانیاں ہم تھے

Kaisi jadoo bayaniyan hum the

کیسی جادو بیانیاں ہم تھےجب تمہاری کہانیاں ہم تھے

ہمیں ڈھونڈو نہ رائیگانی میںرائیگاں رائیگانیاں ہم تھے

جن کو ہونا تھا بے نشاں اک دنچند ایسی نشانیاں ہم تھے

ندیاں تھیں کسی کے ہونٹھوں میںندیوں کی روانیاں ہم تھے

اک بگولے نے یہ کہا مجھ سےتیری راتوں کی رانیاں ہم تھے

تیرے ہونٹھوں میں تیرے عارض میںہر طرف گلفشانیاں ہم تھے

یوںہی ہونے کو ہو گئے واقعناگہاں ناگہانیاں ہم تھے

اب بھی تشنہ دہانیاں ہم ہیںجب بھی تشنہ دہانیاں ہم تھے

— امیر امام