6 اشعار

پس زمیں کہ پس آسماں چلے جاتے

Pas zameen ke pas aasmaan chale jaate

پس زمیں کہ پس آسماں چلے جاتےفرار خود سے کہاں تھا کہاں چلے جاتے

ہماری آنکھ سے اک راستہ نکل آتارکے ہوئے یہ سبھی کارواں چلے جاتے

مسافروں کو سفر میں عجب خیال آیاٹھہرتے ہم تو ہمارے مکاں چلے جاتے

بدن میں تھے تو بدن کو سوال کرنا تھاجواب دینا تھا ہم کو جہاں چلے جاتے

کوئی گناہ نہیں رائیگاں چلے جانایہی تو ہوتا کہ ہم رائیگاں چلے جاتے

گزرتے وقت سے آزاد ایک بستی ہےتری نگاہ سے ہو کر وہاں چلے جاتے

— امیر امام