13 اشعار

کبھی دیکھا نہیں تم کو

Kabhi dekha nahin tum ko

کبھی دیکھا نہیں تم کوہمیشہ سے فقط آواز بن کر میری آنکھوں میں اترتی ہو

گزرتی ہو مرے دل سےمگر اس فون سے ہو کر گزرتی ہو

کبھی دیکھا نہیں تم کوچلو یہ فرض کر لو

جیسے تم کو دیکھتا ہے کوئیاور وہ کیسے دیکھتا ہے

آج یہ مجھ کو بتاؤ تمان آنکھوں سے مجھے خود کو دکھاؤ تم

میں دیکھوں گا کہ وہ آنکھیںتمہارے جسم میں کیسے نہاتی ہیں

میں دیکھوں گا کہ وہ آنکھیںتمہاری بے کرانی کو بھلا کیسے سماتی ہیں

میں دیکھوں گا کہ وہ آنکھیںتمہارے جسم کے ہر جوڑ سے

کس طرح جڑتی ہیںڈھلانوں پر پھسلتی ہیں وہ کیسے

پھر سنبھلتی ہیں وہ کیونکراور موڑ آتے ہیں تو کس طرح مڑتی ہیں

ان آنکھوں کی زبانی داستاں اپنی سناؤ تممجھے خود کو دکھاؤ تم

کہ تم کو دیکھنے کی آرزو نےان آنکھوں کا گریباں چاک کر ڈالا

وہ سل جائےمجھے آرام مل جائے

— امیر امام