9 اشعار

کشتی

Kashti

یقین مانوکہ میری آنکھوں کے خشک تنور سے

وہ چشمہ ابلنے والا ہےجس کا پانی

بہا کے لے جائے گا یہ سب کچھذرا بھی خشکی کہیں نہ ہوگی

کہ جس پہ کوئی قدم جما لےکہیں بھی جائے اماں نہ ہوگی

جہاں پہ چھپ جائے کوئی اور جان بخشوا لےتو سب یہ اعلان عام سن لیں

وہ سب جو اس وقت مجھ پہ ہنستے تھےجب میں یادوں کے جوڑوں کو جمع کر رہا تھا

وہ سب سنیںکہ زندگی بس رہے گی اس کی

جو میری کشتی میں ساتھ ہوگاکہ میں

جو خوابوں کی ایک کشتی بنا رہا تھاوہ آج تیار ہو گئی ہے

— امیر امام