7 اشعار

کیسے چراغ اب تو شرارہ کوئی نہیں

Kaise charagh ab toh sharara koi nahin

کیسے چراغ اب تو شرارہ کوئی نہیںخوش ہے ہوا کہ شب میں ہمارا کوئی نہیں

کیسی عجیب جنگ لڑے جا رہے ہیں ہمجیتا جسے کوئی نہیں ہارا کوئی نہیں

منزل ہے تیری شام کے سایوں کے ہم سفریہ آسماں کہ جس پہ ستارہ کوئی نہیں

وہ دن ہے جس کو چھوڑ کے سورج چلا گیاوہ رات ہے کہ جس کا کنارہ کوئی نہیں

اس سرزمیں پہ اشک بہانے سے فائدہجس سرزمیں کو خون کا دھارا کوئی نہیں

خائف ہیں اس مقام پہ یہ لوگ کس لئےکیا ڈر کہ اب مزید خسارہ کوئی نہیں

پوچھا جو میں نے کوئی تو ہو گا مری طرفاک شخص اٹھا اور اٹھ کے پکارا کوئی نہیں

— امیر امام