5 اشعار

ذہن پر اترے عذابوں کی قسم کھاتے ہیں

Zehn par utre azabon ki qasam khate hain

ذہن پر اترے عذابوں کی قسم کھاتے ہیںہم ہیں موجود کتابوں کی قسم کھاتے ہیں

وہ ہیں سبزہ انہیں زیبا ہے قسم پانی کیہم تو صحرا ہیں سرابوں کی قسم کھاتے ہیں

چاند تارے ہوں کہ آنکھوں میں چمکتے جگنورات بھر بس ترے خوابوں کی قسم کھاتے ہیں

مسجدیں دل کی اذانوں کی قسم کھاتی ہیںدل کے مے خانے شرابوں کی قسم کھاتے ہیں

یہ الگ بات کہ خاروں سے گھرے ہیں لیکنجب بھی کھاتے ہیں گلابوں کی قسم کھاتے ہیں

— امیر امام