6 اشعار

سانسوں کے کارواں کی طرف دیکھتے رہو

Sanson ke karwaan ki taraf dekhte raho

سانسوں کے کارواں کی طرف دیکھتے رہواس کار رائیگاں کی طرف دیکھتے رہو

تازہ بشارتوں کے اترنے کا وقت ہےچپ چاپ آسماں کی طرف دیکھتے رہو

ساحل کی سمت دیکھا تو ساحل نہ آئے گاموجوں کی بادباں کی طرف دیکھتے رہو

جھپکیں نہ ایک بار بھی پلکیں یہ شرط ہےصحرائے رفتگاں کی طرف دیکھتے رہو

کیا ہے عجب کہ وہ بھی تمہیں دیکھنے لگیںشاہان مہ رخاں کی طرف دیکھتے رہو

خاموش اس جہاں سے گزرنا ہے جب تمہیںخاموش اس جہاں کی طرف دیکھتے رہو

— امیر امام