5 اشعار

میری بستی کی کوئی تشنہ دہانی دیکھے

Meri basti ki koi tishna-dahani dekhe

میری بستی کی کوئی تشنہ دہانی دیکھےمدتیں گزریں کسی آنکھ میں پانی دیکھے

جاگ جائے تو بلا لیتا ہے صحرا اس کوسوئے تو خواب میں دریا کی روانی دیکھے

آ گیا گھر تو مجھے جانا ہے بستر کی طرفاب کسے تاب کہ یہ ہجرت ثانی دیکھے

اک تبسم سے کوئی عمر گزارے کیسےکب تلک ترک تعلق کی نشانی دیکھے

میرے الفاظ نے ایجاد کیا ہے اس کوجو بھی دیکھے اسے اب میری زبانی دیکھے

— امیر امام