6 اشعار

وہ ایک اشک جو حاصل ہے زندگانی کا

Wo ek ashk jo hasil hai zindagani ka

وہ ایک اشک جو حاصل ہے زندگانی کاتمام عمر کے منظر نچوڑ کر نکلا

پھر ایک خواب کو بیدار کر دیا کس نےیہ کون رات کے شانے جھنجھوڑ کر نکلا

خوشی ہوئی ابھی موجود ہوں کہیں اس میںمری طرف سے وہ منہ اپنا موڑ کر نکلا

حساب عمر پہ حیراں ہیں خضر بھی میرےجو تیرے ہجر کی راتوں کو جوڑ کر نکلا

کیا تھا دھوپ کی شدت کو زیب تن میں نےادھر وہ چاندنی راتوں کو اوڑھ کر نکلا

گڑا کے دانت گلے میں لہو پیا میراوہ اک خیال کہ مجھ کو بھنبھوڑ کر نکلا

— امیر امام