7 اشعار

سب سمجھتے ہیں کہ ہم جیت کے قابل نہیں ہیں

Sab samajhte hain ke hum jeet ke qabil nahin hain

سب سمجھتے ہیں کہ ہم جیت کے قابل نہیں ہیںصرف اتنا ہے ابھی کھیل میں شامل نہیں ہیں

آستینوں پہ لہو ہے تو لہو ہے اپنااپنے قاتل ہیں کسی اور کے قاتل نہیں ہیں

کبھی تیشہ کو اٹھائے کبھی تلوار لیےاب یہ بازو تری گردن میں حمائل نہیں ہیں

ہم برے ہیں کہ نتیجے میں ہوس کے ہیں یہاںہم برے ہیں کہ کسی عشق کا حاصل نہیں ہیں

اور دنیا فقط آنکھوں کے سوا کچھ بھی نہیںہم وہ منظر ہیں جو آنکھوں کے مقابل نہیں ہیں

جو ہیں ساحل وہ سمندر نہیں ہو سکتے تھےجو سمندر ہیں تو یوں ہیں کہ وہ ساحل نہیں ہیں

پھر کسی موہنی صورت سے محبت ہوگیابھی غصے میں ہیں پر حسن سے بد دل نہیں ہیں

— امیر امام