6 اشعار

کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئے

Ki jaise koi musafir watan mein laut aaye

کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئےہوئی جو شام تو پھر سے تھکن میں لوٹ آئے

نہ آبشار نہ صحرا لگا سکے قیمتہم اپنی پیاس کو لے کر دہن میں لوٹ آئے

سفر طویل بہت تھا کسی کی آنکھوں تکتو اس کے بعد ہم اپنے بدن میں لوٹ آئے

کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنےسبھی چراغ اسی انجمن میں لوٹ آئے

کسی طرح تو فضاؤں کی خامشی ٹوٹےتو پھر سے شور سلاسل چلن میں لوٹ آئے

امیرؔ امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہےتمہارے شعر اسی بانکپن میں لوٹ آئے

— امیر امام