6 اشعار

خامشیٔ دل کسی شب اتنا ڈر جائیں گے ہم

Khamoshi-e-dil kisi shab itna dar jayenge hum

خامشیٔ دل کسی شب اتنا ڈر جائیں گے ہمچونک کر اک سانس کی آہٹ سے مر جائیں گے ہم

آسماں سورج نکل آئے بس اتنا صبر کرساتھ کرنوں کے زمیں پر پھر اتر جائیں گے ہم

خشک ہونٹھوں نے بلایا ہے ہمیں دربار میںساتھ لے کے اپنے نذر چشم تر جائیں گے ہم

سوچتی رہ جائے گی دنیا اسے کیا نام دوںزندگی تجھ میں اک ایسا رنگ بھر جائیں گے ہم

اب نہیں بیٹھا کریں گے بس میں کھڑکی کی طرفتیری بستی کو بنا دیکھے گزر جائیں گے ہم

یہ جہاں نکلا توقع سے زیادہ مختصرالوداع اے دوستو اب اپنے گھر جائیں گے ہم

— امیر امام