7 اشعار

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

Khud ko har aarzoo ke us paar kar liya hai

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہےہم نے اب اس کا سایہ دیوار کر لیا ہے

جاتی تھی میرے دل سے جو تیرے آستاں تکدنیا نے اس گلی میں بازار کر لیا ہے

دے داد آ کے باہر شہ رگ سے خوں ہمارااس نے جو اپنا چہرہ گلنار کر لیا ہے

بس چشم خوں فشاں کو ملتے نہیں ہیں آنسوورنہ ترا مرکب تیار کر لیا ہے

ہے وجہ کج کلاہی طوق گلو ہمارازنجیر پا کو اپنی تلوار کر لیا ہے

محسوس کر رہا ہوں خاروں میں قید خوشبوآنکھوں کو تیری جانب اک بار کر لیا ہے

اس بار وہ بھی ہم سے انکار کر نہ پایاہم نے بھی اب کی اس سے اقرار کر لیا ہے

— امیر امام