6 اشعار

یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا

Yun mere hone ko mujh par aashkar us ne kiya

یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیامجھ میں پوشیدہ کسی دریا کو پار اس نے کیا

پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرفناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا

میں تھا اک آواز مجھ کو خامشی سے توڑ کرکرچیوں کو دیر تک میری شمار اس نے کیا

دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیارات آئی تو مرے بستر کو دار اس نے کیا

جس کو اس نے روشنی سمجھا تھا میری دھوپ تھیشام ہونے کا مری پھر انتظار اس نے کیا

دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھےبن گیا جب میں تو مجھ کو تار تار اس نے کیا

— امیر امام