8 اشعار

خوشبو کو قید گل سے رہا کر دیا گیا

Khushboo ko qaid-e-gul se riha kar diya gaya

خوشبو کو قید گل سے رہا کر دیا گیااور اس کے بعد رزق ہوا کر دیا گیا

اک دل نواز غم کی یہ مجھ پر نوازشیںمیری برہنگی کو قبا کر دیا گیا

جو بھی ملا اسی کا گریبان چاک تھاخنجر بہ دست دست صبا کر دیا گیا

تھی آدمی کو اور ضرورت زمین کییہ کیا کہ آسماں کو سوا کر دیا گیا

گزرا جو ہم پہ اس کی خدائی میں دوستووہ ہار کر سپرد خدا کر دیا گیا

اس نے کہا کہ مجھ سے بچھڑنے پہ یہ سکوتتو زندگی میں حشر بپا کر دیا گیا

مجبور تھے تو رات اسے ماننا پڑاجب رنگ روشنی سے جدا کر دیا گیا

مٹی کا جسم تھا سو وو مٹی کو دے دیایہ قرض آخری بھی ادا کر دیا گیا

— امیر امام