6 اشعار

ستم یہی ہے کہ اب یہ ستم نہیں ہوتا

Sitam yahī hai ke ab yeh sitam nahīñ hota

ستم یہی ہے کہ اب یہ ستم نہیں ہوتاوہ عکس چاندنی راتوں میں ضم نہیں ہوتا

عجب نہیں کہ کوئی خواب پھر نکل آئےمگر یہ آنکھ کا گوشہ کہ نم نہیں ہوتا

بڑھے جو عمر تو یہ رنج بڑھتا جاتا ہےسوائے عمر کے کچھ بھی تو کم نہیں ہوتا

ہزار شکر خدائے فلک نشیں تیرایہ سر زمیں کے خداؤں سے خم نہیں ہوتا

تمہاری یاد تمہاری قسم نہیں آتیتمہارا ذکر تمہاری قسم نہیں ہوتا

ترا بیان حد شاعری سے باہر ہےامیر امامؔ تلک سے رقم نہیں ہوتا

— امیر امام