5 اشعار

وہ معرکہ کہ آج بھی سر ہو نہیں سکا

Wo maarka ki aaj bhi sar ho nahin saka

وہ معرکہ کہ آج بھی سر ہو نہیں سکامیں تھک کے مسکرا دیا جب رو نہیں سکا

اس بار یہ ہوا تری یادوں کی بھیڑ میںہر گام خود کو مل گیا میں کھو نہیں سکا

جاگا ہوں گہری نیند سے لیکن عجیب باتیہ لگ رہا ہے جیسے کہ میں سو نہیں سکا

اگ آئی گھاس عشق کے ملبے پہ ہر طرفہم دونوں میں سے کوئی اسے دھو نہیں سکا

جادو نگر ہے کوئی مرا اندروں جہاںہوتا رہا ہے وہ جو کبھی ہو نہیں سکا

— امیر امام