7 اشعار

کچھ تو ہمارا عکس بھی مبہم ہے دوستو

Kuchh to hamara aks bhi mubham hai dosto

کچھ تو ہمارا عکس بھی مبہم ہے دوستوکچھ ہم پہ روشنی بھی ذرا کم ہے دوستو

لگتا ہے کوئی شام غریباں تھی کن‌ فکاںیہ ساری کائنات شب غم ہے دوستو

ماضی نہ حال کچھ بھی نہیں ہے ابد تلکیہ وقت ایک لمحۂ پیہم ہے دوستو

اس زخم دل کو روز نیا زخم دیجےیہ زخم جس کو زخم ہی مرہم ہے دوستو

سارے جہاں میں کوئی نظارہ نہیں جسےیہ کہہ سکیں کہ آنکھ کا محرم ہے دوستو

جس سے گزر کے کچھ نہیں کھلتا کہاں ہیں ہماس راستے میں ایک عجب خم ہے دوستو

دل میں کبھی جو شہر بسایا تھا عشق نےوہ شہر آج درہم و برہم ہے دوستو

— امیر امام