9 اشعار

میں روٹھتا تھا تو مجھ کو منایا کرتا تھا

Main rooth-ta tha to mujh ko manaya karta tha

میں روٹھتا تھا تو مجھ کو منایا کرتا تھاکسی کا ہجر مرے ناز اٹھایا کرتا تھا

بگاڑ دیتا تھا ترتیب میں ستاروں کیوہ کہکشاں کو دوبارہ سجایا کرتا تھا

مری اداسیاں گاتی تھیں گیت ساون کےاندھیرا مجھ کو کہانی سنایا کرتا تھا

تمام رات برستی تھی چاندنی مجھ پرمیں سر سے پاؤں تلک بھیگ جایا کرتا تھا

یہ اشک آنکھ سے جب بھی نہیں نکلتے تھےمیں ان دنوں بھی فقط مسکرایا کرتا تھا

میں مارا پھرتا تھا روزانہ تیز دھوپوں میںمگر وہ ابر کا ٹکڑا جو سایہ کرتا تھا

نہ جانے کیسے سبھی جان جایا کرتے تھےوہ اک خیال جو سب سے چھپایا کرتا تھا

یہ بھیڑ روز مجھے گمشدہ بناتی تھیمگر وہ روز مجھے ڈھونڈھ لایا کرتا تھا

میں اس کو بھول چکا ہوں کبھی کبھی لیکنیہ یاد آتا ہے وہ یاد آیا کرتا تھا

— امیر امام