8 اشعار

روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیں

Roodaad-e-jaan kahein jo zaraa dam mile hamein

روداد جاں کہیں جو ذرا دم ملے ہمیںاس دل کے راستے میں کئی خم ملے ہمیں

لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول‌ حسنہو کارزار عشق تو پرچم ملے ہمیں

آئے اک ایسا زخم جو بھرنا نہ ہو کبھییعنی ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہمیں

دن میں جہاں سراب ملے تھے ہمیں وہاںآئی جو رات قطرۂ شبنم ملے ہمیں

تم جیسے اور لوگ بھی ہوں گے جہان میںیہ بات اور ہے کہ بہت کم ملے ہمیں

جب ساتھ تھے تو مل کے بھی ملنا نہ ہو سکاجب سے بچھڑ گئے ہو تو پیہم ملے ہمیں

اور پھر ہمیں بھی خود پہ بہت پیار آ گیااس کی طرف کھڑے ہوئے جب ہم ملے ہمیں

جو عمر بھر کا ساتھ نبھاتا نہ مل سکاویسے تو زندگی میں بہت غم ملے ہمیں

— امیر امام