6 اشعار

قریۂ تشنہ دہاں کس کی طرف دیکھے گا

Qarya tishna dahan kis ki taraf dekhe ga

قریۂ تشنہ دہاں کس کی طرف دیکھے گااور یہ سیل رواں کس کی طرف دیکھے گا

تھرتھراتی ہوئی یہ روشنی دیکھے گی کدھررقص کرتا یہ دھواں کس کی طرف دیکھے گا

جس سے باندھے تھے ترے ہاتھ اسی رسی کاتیرے ہاتھوں پہ نشاں کس کی طرف دیکھے گا

یا تو باقی اسے رہنا ہے یا جل جانا ہےمختصر یہ کہ مکاں کس کی طرف دیکھے گا

ان کا کہنا ہے کہ نعرے یوں لگائے جائیںشور میں کون کہاں کس کی طرف دیکھے گا

بوڑھی ہوتی ہوئی بستی نہ ہراساں ہونادیکھنا سارا جہاں کس کی طرف دیکھے گا

— امیر امام