5 اشعار

شور کے دریاؤں میں گہرا اترنا آ گیا

Shor ke daryaon mein gehra utarna aa gaya

شور کے دریاؤں میں گہرا اترنا آ گیاخامشی کو خامشی کی موت مرنا آ گیا

تیری پلکوں نے سکھایا گر کے اٹھ جانا ہمیںتیری زلفوں سے بکھرنے پر سنورنا آ گیا

اس سے پہلے ہم کسی بھی خوف سے واقف نہ تھےتجھ سے بچھڑے تو بچھڑ جانے سے ڈرنا آ گیا

رات تھی وہ پیاس کی شدت کہ جاں ہونٹھوں پہ تھیوہ تو کہیے یاد ان ہونٹھوں کا جھرنا آ گیا

قہقہوں سے ہم مٹا دیتے تھے جس تصویر کواس کو ماتھے کی شکن بن کر ابھرنا آ گیا

— امیر امام