5 اشعار

وہ خیال آیا تو ہر لمحہ دوانہ ہو گیا

Woh khayal aaya to har lamha deewaana ho gaya

وہ خیال آیا تو ہر لمحہ دوانہ ہو گیاموسم تنہائی پھر کتنا سہانا ہو گیا

وہ شجر جو تم نے سینچا تھا پھر اس کی شاخ پراک پرندہ آ کے بیٹھا اور روانہ ہو گیا

صاف آتے ہیں نظر دنیا کے سارے عکس ابتم سے بچھڑے ہیں تو دل آئینہ خانہ ہو گیا

خرچ کرتا ہی نہیں قارون غم ہوں دوستوجمع آنکھوں میں مری کتنا خزانہ ہو گیا

ساتھ روزانہ مرے چلتا ہے بازو تھام کروہ جسے دیکھے ہوئے شاید زمانہ ہو گیا

— امیر امام