12 اشعار

تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر

Tumhin Ko Jaana Tumhin Ko Samjhe Tamaam Aalam Se Tang Ho Kar

تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر

«تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کردوئی کا وحدت میں دخل کیسا رہے ہمیشہ اکنگ ہو کر

نہاں تھا آنا کہ ہو نہ ظاہر عیاں تھا جانا کہ سب ہوں باہروہ دل میں آئے امنگ ہو کر گئے تو چہرے کا رنگ ہو کر

غضب ہے انساں دم مصیبت کرے جو انساں سے بے وفائیکہ دیکھو چکی کی پاٹ کیسے بہم ہیں گردش میں سنگ ہو کر

نہ کور باطن ہو اے برہمن ذرا تو چشم تمیز وا کرخدا کا بندہ بتوں کو سجدہ خدا خدا کر خدا خدا کر

جو اٹھ کے پہلو سے انجمن میں وہ دور بیٹھے ہیں مجھ سے جا کرتڑپ نے درد جگر کے دل کو پٹک دیا ہے اٹھا اٹھا کر

جو آنکھ کھولی تو کچھ نہ دیکھا سحر کو سنسان سب سرا تھیہوا نہ ہم راہیوں سے اتنا کہ ساتھ لیتے مجھے جگا کر

نہ بھول اس زندگی پہ غافل نہیں ہے کچھ اعتبار اس کاکہ راہ لے گی یہ اپنی اک دن عدم کا رستہ تجھے بتا کر

اسی کا ہے رنگ یاسمن میں اسی کی بو باس نسترن میںجو کھڑکے پتا بھی اس چمن میں خیال آواز آشنا کر

بلا ہے حرص و ہوائے دنیا کہ جس سے چکر میں سب ہیں انساںکیا پریشاں ان آندھیوں نے تمام ذروں کو خاک اڑا کر

یہ کس کی تیغ جفا کا یا رب ہر ایک دل پر ہے رعب غالبہلال کی ہے خمیدہ گردن سپہر چلتا ہے سر جھکا کر

شبیہ مد نظر ہے کس کی کہ کوئی پوری نہیں اترتیمٹا دیے صانع ازل نے ہزاروں نقشے بنا بنا کر

ہو بزم جاناں میں حشر برپا تڑپ کا دل کی یہ تھا تقاضامگر بڑی مشکلوں سے روکا ادب نے زانو دبا دبا کر

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں