18 اشعار

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

Hue Naamwar Be-Nishaan Kaise Kaise

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

«ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تری بانکی چتون نے چن چن کے مارےنکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

نہ گل ہیں نہ غنچے نہ بوٹے نہ پتےہوئے باغ نذر خزاں کیسے کیسے

ستاروں کی دیکھو بہار آنکھ اٹھا کرکھلاتا ہے پھول آسماں کیسے کیسے

کڑے ان کے تیور جو مقتل میں دیکھےلیے ناز نے امتحاں کیسے کیسے

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھاوہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے

وہ صورت نہ آنکھوں میں اب ہے نہ دل میںمکیں سے ہیں خالی مکاں کیسے کیسے

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیںگلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

جہاں نام آتا ہے ان کا زباں پرتو لیتی ہے بوسے زباں کیسے کیسے

ہر اک دل پہ ہیں داغ ناکامیوں کےنشاں دے گیا بے نشاں کیسے کیسے

بہار آ کے قدرت کی گلشن میں دیکھوکھلاتا ہے گل باغباں کیسے کیسے

اٹھائے ہیں مجنوں نے لیلہ کی خاطرشتر غمزۂ سار باں کیسے کیسے

خوش اقبال کیا سرزمین سخن ہےملے ہیں اسے باغباں کیسے کیسے

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤتڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

شب وصل حل ہوں گے کیا کیا معمےعیاں ہوں گے راز نہاں کیسے کیسے

خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ ساراتڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

بنا کر دکھائے مرے درد دل نےتہہ آسماں آسماں کیسے کیسے

امیرؔ اب مدینے کو تو بھی رواں ہوچلے جاتے ہیں کارواں کیسے کیسے

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں