7 اشعار

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

Teer par teer lagao tumhein dar kis ka hai

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

«تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے مدثر ثانی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہےسینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوستتو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے

کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہےسخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے

چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دلآنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے

نام شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوبپھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے

صید کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکراے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے

میری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیرؔسر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں