کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا
کلام: آبرو شاہ مبارک
کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کاتباہے حال تری زلف کے اسیروں کا
ڈھلے ہے جس پہ دل تس کا کیا ہے ظاہر اسموہی ہے وہ کہ جو مرجع ہے ان ضمیروں کا
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کاتباہے حال تری زلف کے اسیروں کا
ڈھلے ہے جس پہ دل تس کا کیا ہے ظاہر اسموہی ہے وہ کہ جو مرجع ہے ان ضمیروں کا
یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیںدل کی گرمی سیں کچھ او پہنتا نہیں
تجھ کو گہنا پہنا کے میں دیکھوںحیف ہے یہ بناؤ بنتا نہیں
کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوامری چشم تر میں رکا نہیں کہ تھا رتجگوں کا ڈسا ہوا
مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاںوہی ایک لفظ جو آپ نے، مرے کان میں ہے کہا ہوا