14 اشعار

جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے

Jo log raaton ko jaagte the

جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے

«جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

ستارے جتنے بھی آسماں پرمری تمنا کے ضوفشاں تھے

زمیں کے اندر اتر گئے ہیںجو لوگ راتوں کو جاگتے تھے وہ مر گئے ہیں

وہ پھول وہ تتلیاں کہ جن سےبہار کی دل کشی سوا تھی

وہ رزق خاشاک بن چکے تھےتمام منظر تمام چہرے جو دھیرے دھیرے سلگ رہے تھے

سو اب وہ سب راکھ بن چکے ہیںمیں رفتگاں کی اداس یادوں کے سائے میں دن گزارتا ہوں

اگرچہ خوابوں کا پیرہن تار تار سا ہےپہ میں اسے کب اتارتا ہوں

مری صدا کا جواب اب کوئی بھی نہ دے گایہ جانتا ہوں مگر مسلسل کسی کو اب تک پکارتا ہوں

عجیب یہ کھیل ہے کہ جس کو نہ جیتتا ہوں نہ ہارتا ہوںمری کہانی میں کوئی شے بھی نئی نہیں ہے

یہ ننھے منے حسین خوابوں سے ہے عبارتمری کہانی میں نرم دن خوش گوار شاموں

اداس راتوں کی ایک رو ہےوجود میرا کسی دیئے کی حقیر لو ہے

میں یوں تو کہنے کو عقل و منطق کے دور کا آدمی ہوں لیکنمرا رویہ ہے زندگی کو گزارنے کا بہت پرانا

میں سوچتا ہوں کہ اک صدی قبل پیدا ہوتا تو ٹھیک رہتاکہ مجھ سے کوئی بھی کچھ نہ کہتا

جو خاک کا رزق ہو چکے ہیںمیں ان زمانوں کا نوحہ گر ہوں

وصال و ہجراں کی داستانوں کا نوحہ گر ہوںجنہیں یہ دنیا ہزار ہا بار سن چکی ہے

— اسعد بدایونی