8 اشعار

ہم اہل خوف

Hum Ahl-e-Khauf

ہم اہل خوف

«ہم اہل خوف» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہےاتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی

یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپرچراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں

نہ ان کا یار کوئی ہے نہ کوئی نکتہ چیںنہ جانے کب کوئی دست ستم ادھر آ جائے

اور اس ذرا سی بچی روشنی کو کھا جائےیہ کھلکھلاتے ہوئے ہنستے مسکراتے لوگ

بسوں میں ریلوں میں منزل کی سمت جاتے لوگکوئی دھماکہ انہیں جانے کب اڑا جائے

لہو کے دھبوں پہ افسوس کرتا حاکم شہراور اس کے بعد محبت پہ چند تقریریں

جو اہل شہر کی پیشانیوں پہ روشن ہیںملال یہ ہے کہ اس کو کوئی نہ دیکھے گا

ہم اہل خوف کے سینوں میں جو دھڑکتا ہے

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں