6 اشعار

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں

Jis dam tere kooche se hum aan nikalte hain

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیںہر گام پہ دہشت سے بے جان نکلتے ہیں

یہ آن ہے اے یارو یا نوک ہے برچھی کییا سینے سے تیروں کے پیکان نکلتے ہیں

رندوں نے کہیں ان کی خدمت میں بے ادبی کیجو شیخ جی مجلس سے سرسان نکلتے ہیں

یہ طفل سرشک اپنے ایسا ہو میاں بہکیںبے طرح یہ اب گھر سے نادان نکلتے ہیں

یہ ضد ہے جنہیں یارو آ جائیں جو مشہد پرتو تھام کے ہاتھوں سے دامان نکلتے ہیں

کس طرح غبار ان تک پہنچے گا بھلا اپناآصفؔ جو کبھی گھر سے خوبان نکلتے ہیں

— آصف الدولہ