5 اشعار

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا

Mar gaya gham mein tere haaye main rota rota

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتاجیب و دامن کے تئیں اشک سے دھوتا دھوتا

غیر از خار ستم کچھ نہ اگا اور کہیںکشت الفت میں پھرا اشک میں بوتا بوتا

رفتہ رفتہ ہوا آخر کے تئیں کو مفلسنقد کو عمر کی میں ہجر میں کھوتا کھوتا

گرچہ فرہاد تھا اور قیس جنوں میں مشہورایک دن میں بھی پہنچ جاؤں گا ہوتا ہوتا

چونک آصفؔ نے بنایا عجب اپنا احوالاٹھ گیا پاس سیں تو صبح جو سوتا سوتا

— آصف الدولہ