7 اشعار

پوچھتے کیا ہو مرے تم دل‌ دیوانے سے

Poochhte kya ho mire tum dil deewane se

پوچھتے کیا ہو مرے تم دل‌ دیوانے سےعشق کے رمز کو پوچھو کسی فرزانے سے

جی نکل جاوے گا ظالم مرا اب جانے سےیاں نہ آنا ہی بھلا تھا ترے اس آنے سے

روز کے دکھ سے چھٹا رات کے جلنے سے رہادوستی شمع نے کی دوستو پروانے سے

دل بجا لاوے گا جو کچھ اسے کیجے ارشادیہ تو باہر نہیں کچھ آپ کے فرمانے سے

یوں یکایک جو ہوئے اس کے جگر کے ٹکڑےنہیں معلوم کہا زلف نے کیا شانے سے

ضبط لازم ہے جب ہی تک کہ نہ ہو آنکھ میں اشکاب تو بھر آیا ہے دل اشک کے بھر آنے سے

رو لے دل کھول کے تو اس گھڑی آصفؔ اپنانہیں گھٹ جاوے گا دم اشک کے پی جانے سے

— آصف الدولہ