5 اشعار

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا

Qasid to liye jata hai paigham hamara

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہماراپر ڈرتے ہوئے لے جو وہاں نام ہمارا

کیا تاب ہے جو سامنے ٹھہرے کوئی اس کےآفت ہے غضب ہے وہ دل آرام ہمارا

آغاز نے تو عشق کے یہ حال دکھایااب دیکھیے کیا ہووے گا انجام ہمارا

اے چرخ اسی طرح تو گردش میں رہے گاپر تجھ سے نہ نکلے گا کبھو کام ہمارا

اے پیر مغاں دیکھیو آصفؔ یہ کہے ہےخالی نہ رہے مے سے سدا جام ہمارا

— آصف الدولہ